بنگلورو،9؍دسمبر(ایس او نیوز) مر کزی حکومت کی طرف سے جاری کسان مخا لف قوانین کی حلاف کسان تنظیموں کے بھارت بند کا شہر اور ریاست کے مختلف علاقوں میں ملا جلا رد عمل رہا۔
جہاں مختلف علاقوں میں بند موثر رہا، وہیں شہر بنگلور میں لوگوں نے بند پر اپنا ملا جلا رد عمل دکھا یا۔تجارتی مقا مات اور معمو لات پر شہر میں زیادہ اثر نہیں پڑا البتہ کسان،کنڑا نواز تنظیموں سمیت دیگر مختلف تنظیموں اور اپو زیشن پارٹیوں کی جانب سے بڑے احتجاجی مظاہرے کر تے ہو ئے مر کز سے متنازعہ قوانین کو فوری واپس لینے کی پر زور مانگ کی گئی۔ احتجاجی کسانوں نے بس اسٹانڈ اور دکانوں کو بند کرواتے ہو ئے احتجاج کیا۔
ریاست کے مختلف علاقوں میں کسانوں نے تجارتی سرگرمیوں کو بند کروا تے ہو ئے مر کز ی حکومت کے خلاف اپنی ناراضی ظاہر کی۔ریاست کے گدگ، دھارواڈ،اتھنی، بیلگاوی، ہبلی، کلبرگی، میسور، وجئے پوور، شیموگہ سمیت کئی علاقوں میں کسانوں نے سڑکوں پر اتر کرمر کز کی زرعی قوانین کے خلاف ناراضی جتا ئی۔بس اور ریل سرویس حسب معمول جاری رہی لیکن اس کے باوجود مسا فروں کی تعداد بہت ہی کم رہی۔
شہرکے یشونت پور اے پی ایم سی تاجروں کی انجمن اور کے آر مارکیٹ تا جروں کی تنظیم کی جانب سے اپنی تائید کرنے کی وجہ سے مذکورہ مارکیٹ میں کاروباری سر گر میاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں۔کنڑا تنظیموں کے فیڈریشن کی جانب سے واٹال ناگراج اور سا را گووند کی قیادت میں شہر کے میسور بینک سرکل پر احتجاجی دھر نا دیا گیا۔دونوں نے بیل گاڑی پر سوار ہو کر میسوربینک سرکل تا کیمپے گوڈا بس اسٹانڈ انو کھی ریلی نکا لی۔
اس موقع پر واٹال ناگراج نے کہا کہ مر کز اور ریاستی حکومتیں کسانوں کو ختم کر نے والے قوانین جاری کرنے لگے ہیں،اس کے خلاف آواز اٹھا نے والے کسانوں کی آواز کو بند کر نے کے لئے مرکز ی حکومت حربے استعمال کر نے لگی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظیم نریندر مودی کسانوں کے ہمدرد نہیں بلکہ کسانوں کے مخالف ہیں۔ ملک بھر میں جاری کسانوں کے احتجاج کے لئے کنڑا تنظیموں کے فیڈریشن کی تائید ہے۔انہوں نے الزام لگا یا کہ ہو ٹل مالکان کسانوں کی مفادات کے لئے تائید کر نے کی بجائے بی جے پی کے ایجنٹوں کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
شہرکے میسور بینک سرکل،ٹاؤن ہال اور موریا سرکلوں پر کسان تنظیموں،مزدور تنظیموں، اپوزیشن پارٹیوں کے کارکن نے احتجاج کر تے ہو ئے مر کزی حکومت کی نئی زرعی پا لیسی کو واپس لینے کی مانگ کی۔احتجاجی مظا ہرین نے الزام لگا یا کہ وزیر اعظم کسانوں کے مسائل حل کر نے کی بجائے سرمایہ کاروں کو خوش کر نے کے مقصد سے نئی زرعی پا لیس جاری کر نے میں اپنی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔انہوں کہا کہ احتجاج پر بیٹھے کسانوں پر مرکزی حکومت ظلم کر رہی ہے۔ کوڈاہلی چندر شیکھر کی قیادت میں کئے گئے احتجاج میں بڑی تعداد میں کسان شریک رہے۔
اس موقع پر کوڈا ہلی چنددرا شیکھر نے کہا کے مر کز کی نئی زرعی پا لیسی کی ملک اور بیرونی ممالک میں مخالفت ہو رہی ہے۔مر کز کسانوں کے خلاف زبر دستی پا لیسی جاری کر نے میں اپنی دلچسپی دکھا رہی ہے،اس کے مخا لفت کر رہے کسانوں پر ظلم پر اتر آئی ہے۔شہر کے تین اہم سرکلوں میں احتجاج ریلی نکا لے جا نے سے تھوڑی دیر کے لئے اس علاقوں کی ٹرافک میں خلل پڑا۔ اضلاع اور تعلقہ جات کے اے پی ایم سی مارکیٹوں میں زرعی اشیاء کی سربرائی مکمل طور پر بند رہی،کے ایس آر ٹی سی،بی ایم ٹی سی،آٹو رکشاء،اولا،اوبیر کی سرویس حسب معمول جاری رہی۔
چکبا لا پور ضلع سدلگٹہ میں کسانوں نے کے ایس آر ٹی سی بس اسٹانڈ پر تالا لگا کر احتجاج کیا۔ دھارواڑکی جوبلی سرکل میں کسان اور جئے کرناٹک تنظیموں کے اراکین نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ یہاں بسوں کو روک کر احتجاج کر نے سے مسافروں کو کافی پریشانی کاسامنا کر نا پڑا،ہبلی سمیت دیگر شہروں میں کسانوں نے راستہ روک کر احتجاج کر تے ہو ئے ٹائرس کو جلا کر مرکزی حکومت کے خلاف اپنی نارضگی ظا ہر کی۔بیلگاوی میں بس اسٹانڈ کے سامنے کسانوں نے ٹائر جلا کر احتجاج کیا۔
چامراج نگر میں بند کا کافی اثر دیکھنے کو ملا،مختلف کسان تنظیموں سمیت دیگر تنظیموں، اداروں اور اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے کئے گئے بھارت بند کے دوران ریلوے،بس اسٹانڈوں، ہوائی اڈہ سمیت کئی حساس علاقوں میں پو لیس کا سخت بندو بست کیا گیا تھا۔شہر میں 15 ہزار سے زیادہ پو لیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا جس میں کے ایس آر پی کے 12اور سی اے آر کے30ٹکڑیاں شامل ہیں۔ بند کے دوران شہر سمیت ریاست بھر میں پولیس کا سخت بندو بست کی وجہ سے کو ئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔